نیویارک،19اکتوبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)ایکواڈور نے تسلیم کیا ہے کہ اس نے وکی لیکس کے بانی جولین اسانج کی انٹرنیٹ تک رسائی جزوی طور پر محدود کر دی ہے۔اسانج نے لندن میں ایکواڈور کے سفارت خانے میں پناہ لے رکھی ہے۔ایکواڈور نے کہا ہے کہ اسانج نے حالیہ ہفتوں میں ایسا مواد افشا کیا ہے جس سے امریکی صدارتی انتخابات پر اثر پڑ سکتا ہے۔تاہم اس نے یہ بھی کہا کہ یہ قدم واشنگٹن کے دباؤ کے تحت نہیں اٹھایا جا رہا۔امریکہ نے وکی لیکس پر نشر ہونے والے اس الزام کی تردید کی ہے کہ اس نے ایکواڈور سے کہا تھا کہ وہ صدارتی امیدوار ہلیری کلنٹن کے بارے میں دستاویزات شائع کرنا بند کر دے۔جولین اسانج جنسی حملے کے الزامات کے تحت سویڈن منتقل کیے جانے سے بچنے کے لیے 2012سے ایکوڈور کے سفارت خانے میں رہ رہے ہیں۔ایکواڈور کی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ وکی لیکس کا دستاویزات شائع کرنے کے فیصلے کا امریکی صدارتی انتخابات پر ممکنہ اثر پڑ سکتا ہے۔انھوں نے کہا کہ ایکواڈور انتخابی عمل میں دخل اندازی نہیں کرنا چاہتا۔ انھوں نے مزید کہا کہ 'ایکواڈور دوسرے ملکوں سے دباؤ قبول نہیں کرتا۔وکی لیکس نے اس سے قبل خبر دی تھی کہ ایکواڈور نے ہفتے کی شام اسانج کا انٹرنیٹ کاٹ دیا تھا۔وکی لیکس ہلیری کلنٹن کی مہم کے بارے میں مواد جاری کر رہی ہے۔اس نے ہفتے کو ہلیری کلنٹن کی تقاریر کے مسودے نشر کیے تھے جو انھوں نے امریکی بینک گولڈ مین سیکس میں کی تھی۔ کلنٹن کی مہم نے یہ تقاریر نشر کرنے سے انکار کر دیا تھا۔نامہ نگاروں کے مطابق بینک کے افسران کے ساتھ کلنٹن کے ای میلز کے تبادلے سے لبرل ڈیموکریٹس کو تشویش ہے کہ ہلیری کلنٹن کے وال سٹریٹ سے قریبی تعلقات ہیں۔کلنٹن کی مہم نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ کام روسی ہیکروں نے کیا ہے جو امریکی جمہوری عمل میں خلل ڈالنا چاہتے ہیں۔ تاہم اس نے افشا ہونے والے ای میلز کی درستی کی تصدیق نہیں کی۔ایک ای میل میں کلنٹن نے گولڈ مین سیکس کی کانفرنس میں کہا تھا کہ وہ شام میں خفیہ مداخلت کرنا چاہتی ہیں۔بینک نے کلنٹن کو تقریر کرنے کے لیے سوا دو لاکھ ڈالر ادا کیے تھے۔